17 اگست 2013 - 19:30
مصر میں قتل وغارت اور سازشوں کا بازار گرم

مصر ميں کرفيو کے باوجود معزول صدر محمد مرسي کے حاميوں کے مظاہرے جاري ہيں ـ

ابنا: فوج کے انتباہات کو نظر انداز کرتے ہوئے صدر مرسي کے حاميوں نے قاہرہ اور اسکندريہ سميت مختلف علاقوں ميں مظاہرے کئےـ ادھر وزارت اوقاف کے حکام نے کہا ہے کہ نماز کےبعد مساجد کو بند رکھاجائے گا اور اس حکم کي وجہ سيکورٹي کي صورت حال ہےـ ادھر مصر کي سرکاري خبر رساں ايجنسي نے اپني رپورٹ ميں بتايا ہے کہ اخوان المسلمين کے ڈھائي سو حاميوں کے خلاف قانوني کارروائي شروع کر دي گئي ہے جن پر قتل اور دہشت گردانہ اقدامات کے الزامات ہيں ـہفتے کے روز مصر کے عبوري وزير اعظم حازم ببلاوي نے اخوان المسلمين کي سرگرميوں پر پابندي لگانے کي تجويز پيش کي ہے۔ دوسری جانب مصر سے موصولہ اطلاعات کے مطابق مصرکے مختلف صوبوں میں اخوان المسلمین کے ایک ہزار چار رہنماوں اور کارکنون کو گرفتار کرلیاگيا ہے۔یہ اعداد و شمار عبوری حکومت کی وزارت داخلہ نے دئے ہیں۔ عبوری حکومت نے ایک بیان میں دعوی کیا ہےکہ اخوان  المسلمین کے ہتھیار بند کارکن سرکاری اداروں اور پولیس چوکیوں پرحملے کررہے ہیں۔ مصری وزارت داخلہ نے کہا کہ جن مقامات پر دھرنا دیا جارہا ہے انہیں خالی کروالیا جائے گا۔ اس بیان کے مطابق سکیورٹی فورسس نے دسیوں بندوق اور پستول اور ایک ہزار سے زائد گولیان ضبط کی ہیں۔ مصر کي وزارت صحت نے جمعے کو 173 افراد کے مارے جانے اور 1330افراد کے زخمي ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں ميں 53 سيکورٹي اہلکار بھي شامل ہيں۔

.......

/169